۱ پطر س 2

1

ماضی میں کچھ جھو ٹے نبی خدا کے لوگوں میں تھے ۔ اسی طرح تم لوگوں کے گروہ میں بھی جھو ٹے استاد ہو نگے ۔ وہ پو شیدہ طو ر پر ہلاک کر نے والی بُری اور غلط باتیں نکالیں گے یہاں تک کہ وہ خدا وند کا انکار کریں گے ۔ جس نے اُن کو آزادی دلا ئی تھی ۔اور اپنے آپ کو جلد ہلا کت میں ڈالیں گے ۔

2

کئی لوگ انکی برائی کی راہ پر چلیں گے اور دوسرے لوگ سچائی کے راستے کے متعلق محض انکی وجہ سے بری باتیں کہیں گے ۔

3

وہ جھو ٹے استاد لا لچ سے باتیں بنا کر تم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرا ئیں گے۔ لیکن ان جھو ٹے استادوں کے لئے فیصلہ بہت پہلے ہی ہو چکا ہے اور وہ اُس سے فرار نہیں ہو پا ئیں گے خدا انہیں تباہ کر دیگا ۔

4

جب فرشتوں نے صرف ایک گناہ کیا تو خدا نے فرشتوں کو بغیر سزا کے نہیں چھو ڑا خدا نے انہیں جہنم میں بھیج کر تاریک غا روں میں ڈال دیا ۔ اور وہ وہیں عدالت کے دن تک حراست میں رہیں گے ۔

5

قدیم دنیا کے بدکار لوگوں کو بھی سزا دی خدا نے ان لوگوں کے لئے سیلاب لا کر انہیں غرق کر دیا ۔ صرف خدا نے نوح کو اور دیگر سات آدمیوں کو بچا لیا نوح وہ شخص تھا جو لوگوں کو راستبازی کی باتیں کہتا تھا ۔

6

اور خدا نے سدوم اور عمورہ جیسے بُرے شہروں کو خاک سیاہ کر دیا ۔ اور آئندہ زمانے کے لئے بے دینوں کے لئے جائے عبرت بنا دیا ۔

7

لیکن خدا نے لوط کو بچا لیا لوُط بہت پارسا آدمی تھا ۔ لُوط کو بے دینوں کے ناپاک چال چلن سے تکلیف اٹھا نی پڑی ۔

8

لُوط بہت اچھا آدمی تھا لیکن ان کا روزا نہ کا رہنا ان برے صفت لوگوں کے ساتھ تھا ۔ اُنکے بُرے کا موں کو دیکھ دیکھ کر اور سُن سُن کر گو یا ہر روز اپنے سچّے دل کو شکنجے میں کھینچتا تھا ۔

9

اسی لئے تو خدا وند دینداروں کو آزمائش سے نکال لیتا ہے اور خدا وند برے لوگوں کو عدالت کے دن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے ۔

10

وہ سزا خصوصاً ان لوگوں کے لئے ہے جو ناپاک خواہشوں سے گناہوں کی پیر وی کر تے ہیں اور خدا وند کی حکو مت کو نا چیز جانتے ہیں ۔ یہ جھوٹے استاد اپنی خوا ہش سے جو چاہے کرتے ہیں اور اپنی بڑا ئی کر تے ہیں اور جلا ل وا لے فرشتوں کے خلاف بدکاری کی باتیں کر نے سے نہیں ڈرتے ۔

11

یہ فرشتے ان جھو ٹے استادوں سے طاقت اور قدرت میں بڑے ہیں اس کے با وجود بھی یہ فرشتے خدا وند کے سامنے جھو ٹے استا دوں پر لعن طعن کے ساتھ الزام نہیں لگا تے تھے ۔

12

لیکن یہ جھو ٹے استاد بے عقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے جانے اور ہلاک ہو نے کے لئے حیوان مطلق پیدا ہو ئے ہیں ۔ جن باتوں سے نا واقف ہیں انکے بارے میں اوروں پر لعن و طعن کرتے ہیں وہ اپنی خرا بی میں خود خراب کئے جائیں گے ۔

13

ان جھو ٹے استا دوں میں بہت ساروں کو تکلیف دی اسلئے انکو بھی تکلیف دی جائے گی جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہی انکا معاوضہ ہو گا یہ جھو ٹے استاد برائی کرنے کو ایک مذاق سمجھتے ہیں اور اسے علانیہ کر تے ہیں کہ تمام لوگ دیکھ سکیں یہ بد حرکات سے خوش ہو تے ہیں اس لئے یہ تم لوگوں میں ایک بد نما داغ اور دھبّے ہیں جب تم ملکر کھا نے بیٹھتے ہو تو وہ تمہیں شرمندہ کر تے ہیں ۔

14

وہ ہر وقت نا محرم عورتوں کی تلاش میں رہتے ہیں وہ جھو ٹے استاد گناہوں پر قابو نہیں رکھتے ۔ وہ کمزور دلوں کو پھنسا تے ہیں انکا دل لالچ کا مشتاق ہے وہ لعنت کی اولاد ہیں ۔

15

یہ جھو ٹے استاد سیدھا اور سچّا راستہ چھو ڑ کر غلط راستے پر چلتے ہیں یہ اسی راستے پر چلتے ہیں جس راستے پر بعور کا بیٹا بلعام چلا تھا ۔ جس نے نا راستی کی مزدوری کو عزیز جانا ۔

16

ایک گدھے نے بلعام سے کہا تھا کہ وہ بدی کر رہا ہے اور گدھا ایک جانور ہے جو بات نہیں کر سکتا لیکن اس گدھے نے آدمی کی آواز میں بات کی اور نبی کو دیوانگی سے باز رکھا ۔

17

یہ جھو ٹے استاد فواروں کی مانند ہیں جس میں پا نی نہیں ہے اور ایسے بادل ہیں جو طو فانی ہواؤں میں صرف آواز سے گرجتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے گہری تا ریکی میں ایک جگہ رکھی گئی ہے ۔

18

یہ جھو ٹے استاد ایسی باتوں کی شیخی مارتے ہیں جن کے کو ئی معنیٰ مطلب نہیں ہیں یہ لوگوں کو غلط حرکتوں کی طرف مائل کر تے ہیں یہ جھو ٹے استاد لوگوں کو بری خواہشوں کی طرف راغب کر تے ہیں اور بد کاری کے کاموں کی ترغیب دیکر گناہوں کی راہ پر ڈالتے ہیں ۔

19

یہ جھو ٹے استاد ان لوگوں سے آزادی کے وعدہ کر تے ہیں اور خود ہی خرا بی کے غلام بنے ہو ئے ہیں جو آخر میں تباہ ہو نے والے ہیں ۔ آدمی ان چیزوں کا غلام ہے جو اسکو قابو میں رکھے ہو ئے ہیں ۔

20

اور وہ لوگ خدا وند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی پہچان کے وسیلے سے دنیا کی آلودگی سے چھو ٹ کر پھر ان میں پھنسے اور ان سے مغلوب ہو ئے تو انکا پچھلا حال پہلے سے بھی بد تر ہوا ۔

21

ہاں راستبازی کی راہ کا نہ جاننا انکے لئے اس سے بہتر ہو تا کہ اسے جانکر اس مقدس تعلیم سے پھر گیا جو انہیں سونپا گیا تھا ۔

22

ان پر یہ سچی مثل صادق آتی ہے کہ ،”جب کتا قے کر تا ہے تو پھر اسی کی طرف رجوع کر تا ہے “ اور جب سوّر کو نہلا یا جائے تو وہ پھر گندے کیچڑ کی طرف ہی لو ٹتا ہے ۔ “