۱ پطر س 2

1

پس ایسے کو ئی کام مت کرو جس سے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچے، جھوٹ مت بولو ، منا فق مت بنو، اور حسد مت کرو۔ دوسرے لوگوں کے متعلق بد گو ئی مت کرو ان چیزوں کواپنی زندگی سے دور رکھو ۔

2

ان بچّوں کی مانند رہو جو حال میں پیدا ہو ئے ہوں خالص رُوحانی دودھ کے مشتاق رہو یہ تعلیمات تمہیں رُوحانی طور پر بڑھنے کے لئے مددگار ہیں اورتم بچ کر رہو گے ۔

3

تم نے خداوند کی مہربانی کا مزہ چکھ ہی لیا ہے ۔

4

خداوند یسوع ایک “ زندہ پتھر” ہے دُنیا کے لوگوں نے اس پتھر کو ردّ کر دیا تھا لیکن خدا نے اسے چُنا ہے خدا کے نزدیک وہ بہت قیمتی ہے ۔ اِس لئے اِس کے پاس جا ؤ۔

5

تم بھی زندہ پتھروں کی مانند ہو۔ خدا رُوحانی مکان کی تعمیر کے لئے تمہیں استعمال کر رہا ہے اور تم کواس گھر میں مقدّس پیشوا کی طرح خدمت کر نی ہے اور تمہیں رُوحانی طور پر خدا کو قربانیاں دینی ہیں۔ یہ قربانیاں یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کے نزدیک مقبول ہو تی ہیں۔

6

چُنانچہ صحیفوں میں کہا گیا ہے : “ دیکھو! میں نے ایک قیمتی کو نے کے پتھر چُنا کوہے اور میں اس پتھر کو صیّون میں رکھتا ہوں جو شخص اس میں ایمان لا ئے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہو گا ۔” یسعیاہ۲۸:۱۶

7

وہ پتھر تم جیسے ایمان وا لوں کے لئے قیمتی ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ ایسے ہیں: “ جس پتھر کو معما روں نے ردّ کیا وہی پتھر سب سے اہمیت وا لا ہو گیا “ زبور ۱۱۸: ۲۲

8

جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ ایسے ہیں: “جیسے اس پتھر سے ٹھوکر کھا تے ہیں جس کی وجہ سے لوگ گِر جا تے ہیں” یسعیاہ۸:۱۴ لوگ ٹھو کر کھا تے ہیں کیوں کہ جو خدا کہتا ہے اس کے پیغام کی اطا عت نہیں کر تے تو اسی لئے انہیں لوگوں کے لئے خدا کے منصوبہ کے مطا بق ایسا ہو تا ہے ۔

9

لیکن تم لوگ چُنے ہو ئے ہو اور بادشاہ کے شاہی کا ہن ہو تم لوگ مُقدس قوم کے لوگ ہو اور تمہا را تعلق خدا سے ہے خدا نے تمہیں اِس لئے چُنا کہ تم اس کی عجیب نشانیوں کے متعلق لوگوں کو با ضابطہ طور پر بتا ؤ جو اس نے کی ہیں اس نے تمہیں گنا ہوں کے اندھیرے سے با ہر اپنی روشنی میں بُلا یا ہے ۔

10

ایک وقت تھا کہ تم خدا کے لوگ نہ تھے لیکن اب تم خدا کے لوگ ہو ۔ پہلے تم نے رحمت حاصل نہیں کی تھی لیکن اب تم کو خدا کی رحمت حاصل ہوئی۔

11

عزیز دوستو اس دُنیا میں تم اجنبی اور مسا فر کی طرح ہو ۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ تم بُرے کاموں سے جسے کہ تمہا را جسم کرنا چاہتا ہے دور رہو ۔ اور یہ ساری چیزیں تمہا ری رُوح کے خلا ف لڑا ئی کر تی ہیں۔

12

جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ تمہا رے اطراف ہیں اور وہ لوگ یہ کہہ کر تہمت باندھتے ہیں کہ تُم نے بُرا کام کیا ہے اِس لئے نیک زندگی گذارو تب ہی وہ لوگ دیکھ سکیں گے کہ تم نیک عَمل کے ساتھ زندگی گذارتے ہو تو پھر وہ لوگ خدا سے خُوش ہو نگے جب وہ ان کی آمد کے دن آئیں گے۔

13

اس شخص کی اطا عت کرو جسے اس دنیا میں اختیار دیا گیا ہے اور یہ خداوند کی خاطر کرنا چاہئے ۔ بادشاہ کی اطا عت کرو جو اعلیٰ اختیار رکھتا ہے ۔

14

اور ان قائدین کو جنہیں بادشاہ نے بھیجا ہے ان کی اطا عت کرو انہیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں جو بُرے عمل کر تے ہیں اور ان کی تعریف کریں جو نیک عمل کر تے ہیں۔

15

جب تم نیک عمل کر تے ہو تو تم ان لوگوں کو خاموش کرو جو جاہِل ہیں اور تمہا رے با رے میں بیہودہ باتیں کر تے ہیں اِس لئے اچھّا کرو اور خدا کی یہی مر ضی ہے ۔

16

آزاد آدمیوں کی طرح رہو لیکن اپنی آزادی بُرے عمل کر کے انہیں چھُپا نے کے بہا نے نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خدا کی خدمت میں گذارو۔

17

ہر ایک کی عزّت کرو خدا کے خاندان کے ہر بھا ئی بہن سے محبت کرو خدا سے ڈرو اور بادشاہ کی تعظیم کرو۔

18

اے غلامو ! اپنے مالکوں کے اختیار کے تا بع رہو یہ سب کُچھ عزّت کے ساتھ کرو اچّھے مہربان مالکوں کی اطا عت کرو۔ اور جو خراب مالک ہیں ان کی بھی اطا عت کرو۔

19

ایک شخص جو کسی بھی قسم کی بُرا ئی نہیں کرتا وہ بھی مُصیبت میں پڑ سکتا ہے اور ایسا آدمی تکلیف کو بر داشت کر کے خدا کے متعلق سوچے تو یہی چیز خدا کو خُوش کر تی ہے۔

20

لیکن اگر تمہیں بُرے عمل کی سزا ملے اور تو نے اسے برداشت کیا تو اس میں تعریف کی کیا بات ہے ۔ لیکن اگر اچّھے عمل کی وجہ سے تم مصیبت میں مبتلا ہو ئے اور پھر برداشت کیا یہ عمل خدا کو خوش کر ے گی ۔

21

بُلا ئے گئے ہو کیوں کہ مسیح بھی تمہا رے وا سطے دُکھ اٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تا کہ ان کے نقشِ قدم پر چلو۔

22

“ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے مُنہ سے جھو ٹی بات نکلی “ یسعیاہ۵۳:۹

23

لوگوں نے مسیح کو بُرا کہا لیکن مسیح نے اس کے جواب میں انہیں بُرا نہیں کہا مسیح نے مصیبتیں اُٹھا ئیں پھر بھی اس نے لوگوں کے خلاف کچھ اندیشہ پیدا نہیں کیا مسیح نے اپنے آپ کو خدا کے سپُرد کر دیا جو منصفانہ عدالت کر تا ہے ۔

24

مسیح نے ہما رے گنا ہوں کو اپنے جسم پر لئے ہو ئے صلیب پر چڑھ گیا ۔ چُنانچہ ہم گنا ہوں کے اعتبار سے مر کر راستبا زی کے اعتبار سے جئیں۔ اس کے زخموں سے تم شفایاب ہو ئے ۔

25

تم ان بھیڑوں کی مانند تھے جو غلط راستے پر تھے لیکن اب تم وا پس اپنے چروا ہے کے پاس آگئے ہو جو تمہا ری روُحوں کا محافظ ہے ۔