۱ پطر س 1

1

پطرس کی طرف سے جو یسوع مسیح کا رسول ہے خدا کے چنے ہو ئے لوگوں کے نام سلام ۔ جو اپنے گھروں سے دور ہیں اور پُنطس، گلتیہ،کپّدکیہ،ایشیاء ہنتھنیہ کے اطراف میں پھیلے ہو ئے ہیں ۔

2

خدا یعنی باپ کا پہلے سے منصوبہ تھا کہ تمہیں اس کے مقدس لوگوں میں چُن لیا جائے یہ روح کا کام ہے کہ تمہیں مقدس بنائے خدا کی خواہش ہے کہ اس کی اطا عت کرنی چاہئے اور تم یسوع مسیح کا خون چھڑ کے جانے کے لئے بر گزیدہ ہو ئے ہو ۔ فضل اور سلامتی تمہیں زیادہ حاصل ہو تی رہے ۔

3

خدا اور باپ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کی اور اسکے عظیم رحم کی تعریف ہو ۔ خدا نے ہم کو نئی زندگی بخشی تا کہ ہم زندہ امید یسوع مسیح کے موت سے اٹھا ئے جانے کی وجہ سے پیدا ہو ئے ۔

4

تا کہ اب ہم ایک غیر فانی اور بے داغ ، اور لا زوال میراث حاصل کریں وہ خوشیاں تمہارے لئے جنت میں محفوظ ہیں ۔

5

خدا کی قدرت تمہارے ایمان کے ذریعہ حفاظت کرتی ہے جب تک کہ تمہاری نجات نہ ہو اور وہ وقت گزار نے کے ساتھ تیار ہے ۔

6

اور تمہیں بہت بڑی خوشی ہو گی یہاں تک کہ تھو ڑے عرصے کے لئے طرح طرح کی آزمائشوں کے سبب سے تم غمگین ہو گے ۔

7

یہ مصیبتیں کیوں ہونگی ؟ یہ تمہارے ایمان کی پاکی کو ثابت کر نے کے لئے ہے تمہارے ایمان کی پا کی سونے سے زیادہ قیمتی ہے سونے کا خالص پن آ گ میں تپ کر معلوم ہو تا ہے لیکن سونا فنا پذیر ہے لیکن تمہارا ایمان نہیں تمہارے ایمان کی پا کی یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف جلال اور عزت تم کو لا ئے گی ۔

8

تم نے مسیح کو نہیں دیکھا پھر بھی تم اس سے محبت کر تے ہو یہاں تک کہ اب تم اس کو دیکھ نہیں سکتے لیکن پھر بھی تم اس میں ایمان رکھتے ہو چونکہ تم اس پر ایمان لا کر ایسی خوشی مناتے ہو جس کا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔

9

تمہارے ایمان کا آخری مقصد تمہاری رُوح کی نجات ہے اور یہی تمہارا حا صل ہے ۔

10

اس نجات کے بارے میں نبیوں نے بہت تحقیق کی اور اس کے بارے میں جاننے کی کو شش کی اور ان نبیوں نے اس فضل کے متعلق نبوت کی جو تم حاصل کر نے والے ہو ۔

11

مسیح کی روح ان نبیوں میں تھی اور وہ روح ان مصیبتوں کے بارے میں بتا رہی تھی جو مسیح پر آئیگی اور اس جلال کے بارے میں جو ان مصیبتوں کے بعد آئیگا ۔ نبیوں نے روح جو اظہار کر رہی تھی اسکے بارے میں جاننے کی کو شش کی کہ یہ واقعات کب پیش ہونگے اور دنیا اس وقت کیسی ہو گی ۔

12

یہ ان پر انکشاف ہوا تھا کہ انکی خدمات صرف ان کے لئے ہی نہیں وہ نبی تمہاری خدمت کر رہے تھے جب انہوں نہ کہا ان چیزوں کے متعلق اعلان کیا وہ لوگ جنہوں نے تمکو کلام کی تبلیغ کی اور روح القدس کے ذریعہ تم کو خوشخبری دی جو آسمان سے بھیجے گئے فرشتے بھی ان چیزوں کو جاننے کے خواہش مند تھے ۔

13

اس لئے اپنے ذہنوں کو خدمت کے لئے تیار کرو اور خود پر قابو رکھو اور اسکے فضل کی کامل امید رکھو ۔ جو یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تم پر ہو نے والا ہے ۔

14

پہلے ان چیزوں کو سمجھنے کے تم قا بل نہیں تھے اس لئے اپنی مرضی کے اور خواہش کے مطابق تم نے بُرائیاں کیں لیکن اب تم خدا کے بچّے ہو جو فرماں بردار ہو اس لئے پہلے جو زندگی تم گزارے ہو اس طرح اب نہ رہو ۔

15

مقدس بنو اپنے اطوار و افعال سے تم مقدس رہو جیسا کہ خدا مقدس ہے وہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں بلایا ہے ۔

16

یہ صحیفوں میں لکھا ہے :”مقدس رہو جیسا کہ میں مقدس ہوں ۔”

17

تم خدا سے دعا کرو اور اسکو باپ کہہ کر پکارو جو ہر ایک کے کام کے موافق بغیر طرفداری کے لوگوں کی ضرورت پو ری کر تا ہے ۔ اس لئے تم اس دنیا میں مسافر کی طرح ہو اس لئے تمہاری زندگی کو زمین پر گزارنا ہو گا ۔ اور خدا سے ڈرنا ہو ۔

18

تم جانتے ہو کہ پہلے تم بے معنیٰ زندگی گزاررہے تھے اسے تم نے تمہارے باپ دادا سے لیا تھا تم جانتے ہو کہ تم نے جلد فنا ہو نے والی چیزوں سے نہیں بچا یا گیا جیسے سونے چاندی یا کو ئی اور چیز جو فانی ہے ۔

19

بلکہ تمہیں مسیح کے قیمتی خون سے خریدا گیا جو پاک اور کامل مینھ تھا ۔

20

مسیح کو ددُنیا کے بننے سے پہلے ہی چُن لیا گیاتھا لیکن دُنیا کے آخری وقتوں میں اس کا ظہور تمہارے لئے ہوا

21

تمہارا خدا میں ایمان مسیح کے ذریعے ہے خدا نے مسیح کو موت سے اٹھا یا خدا نے اسکو جلال بخشا اسی لئے تمہارا ایمان اور امید خدا میں ہے ۔

22

تم نے اپنی سچائی کی تابعداری سے اپنے آپ کو پاک کیا ہے اور اب تم اپنے بھا ئیوں اور بہنوں سے یقیناً محبت کر سکتے ہو اس لئے تم اپنے دل کی گہرائیوں سے اور شدّت سے ایک دوسرے سے محبت کرو اور تم سب طاقت سے رہو ۔

23

کیوں کہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ ہے نئے سرے سے پیدا ہو ئے ہو ۔

24

صحیفہ کہتا ہے : “لوگ ہمیشہ قائم نہیں رہتے وہ گھاس کی مانند ہیں ان کی تمام شان و شوکت ایک جنگلی پھول کی مانند ہے گھاس سوکھ جاتی ہے اور پھول گر جاتا ہے ۔

25

لیکن خدا کے کلام کے الفاظ ہمیشہ رہنے والے ہیں “ یسعیاہ۴۰:۶۔۸ اور یہی لفظ ہے جو تمہیں سنایا گیا تھا