يعقوب 5

1

اے دولتمندو ذرا سنو، تُم اپنی مُصیبتوں پر جو آنے وا لی ہیں روؤ اور واویلا کرو۔

2

تمہا ری دو لت ضا ئع ہو چکی ہے اور تمہا ری پو شاکیں دیمک چاٹ گئی ہے۔

3

تمہا رے سونے اور چاندی کو زنگ لگ گیا اور یہ ز نگ تمہا رے خلاف گواہی ہے اور وہ زنگ تمہا رے جسموں کو آ گ کی طرح کھا جا ئیگا اپنے آخری دنوں میں تم نے خزانہ جمع کیا ہے ۔

4

لوگوں نے تمہا رے کھیتوں میں کام کیا لیکن تم نے انہیں معاوضہ نہیں ادا کیا وہ لوگ تمہا رے خلاف چلّاتے ہیں ان لوگوں نے تمہا رے لئے بیجوں کو بو یا اور اب فصل کاٹنے وا لوں کی فریاد خداوند قادرمطلق رب الا فواج کے کانوں تک پہنچ گئی ہے ۔

5

تم نے زمین پر امیرانہ عیش و عشرت میں زندگی گذاری ہے تم نے اپنی خواہشات کے مطا بق اپنے آپ کو خوش کیا تم نے اپنے آپ کو اس طرح مو ٹا تا زہ کیا جیسے کو ئی جانور ذبح کر نے کے دن کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔

6

تم نے بھو لے بھا لے لوگوں کو قصوروار ٹھہرا کر قتل کیا وہ تمہا را مقابلہ نہیں کر تے ۔

7

پس اے بھا ئیو اور بہنو! خداوند کی آمد تک صبر کرو ۔ دیکھو کسان زمین کی قیمتی پیداوار کے انتظار میں پہلے اور پچھلے مینہ کے برسنے تک صبر کرتا رہتا ہے ۔

8

تمہیں بھی صبر کر نا چاہئے اور دل چھو ٹا مت کرو، امید رکھو کہ خداوند کی آمد قریب ہے ۔

9

[This verse may not be a part of this translation]

10

اے بھا ئیو اور بہنو! نبیوں کی راہ پر چلو جنہوں نے خداوند کے نام پر باتیں کیں اور بہت تکلیفیں اُٹھا ئیں لیکن وہ صبر کر تے رہے ۔

11

ہم اُن کو مُبارک کہتے ہیں جنہوں نے تکلیفیں اُٹھا ئیں اور صبر کئے۔ تم نے ایوب کے صبر کے با رے میں سنا ہو گا کہ تمام تکا لیف ختم ہو نے کے بعد خدا وند نے اس کی مدد کی جس سے ظا ہر ہو ا ہے کہ خدا وند بہت مہر بان اور رحم دل ہے ۔

12

مگر اے میرے بھا ئیو اور بہنو! یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ جب تم کو ئی وعدہ کر تے ہو تو قسم نہیں کھا تے جو کچھ تم کہتے ہو اس کی گواہی میں آسمان زمین یا کسی اور چیز کا نام لو جو تمہیں ہاں کہنا ہو تو کہو “ہاں “جب تمہیں نہ کہنا ہو تو کہو” نہ “ پھر تم خدا کی پکڑ میں نہ آؤ گے ۔

13

اگر تم میں سے کو ئی مصیبت میں ہو تو دعا کرے اور اگر کو ئی خوش ہو تو چاہئے کہ خدا کی تعریف میں گیت گائے ۔

14

اگر تم میں کو ئی بیمار ہو تو چاہئے کہ کلیساء کے بزرگوں کو بلا ئے اور وہ خدا وند کے نام سے اس پر تیل مَل کر اس کے لئے دعا کرے ۔

15

[This verse may not be a part of this translation]

16

[This verse may not be a part of this translation]

17

جب ایلیاہ ہماری ہی طرح ایک معمولی آدمی تھا جس نے دعا کی کہ بارش نہ ہو چنانچہ ساڑھے تین سال تک زمین پر بارش نہ ہو ئی ۔

18

جب ایلیاہ نے پھر دعا کی تو آسمان سے پانی بر سا اور زمین میں پیداوار ہو ئی

19

اے میرے بھا ئیو! اور بہنو اگر کو ئی تم میں راہِ حق سے گمراہ ہو جائے تو کو ئی ایک اس کو سچاّئی کی طرف لا ئے ۔

20

یاد رکھو اگر کو ئی آدمی گنہگار کو اسکی گمراہی سے نکالے تو گویا وہ اس گنہگار کی روح کو ہمیشہ کی موت سے بچاتا ہے اور اس کو معلوم ہو نا چاہئے کہ اس کی وجہ سے اس کے کئی گناہ خدا کی طرف سے معاف کئے جائیں گے ۔