عبرانیوں 1

1

ما ضی میں خدا نے ہمارے باپ داداؤں سے کئی موقعوں پر کئی مرتبہ کئی طریقوں سے نبیوں کی معرفت کلام کیا ۔

2

لیکن ان آخری دنوں میں خدا نے پھر ہم سے اپنے بیٹے کی معرفت کلام کیا ۔ اس نے اسکے وسیلے سے ساری دنیا کی تخلیق کی اور اسے ساری چیزوں کا وارث ٹھہرا یا ۔

3

اور بیٹا خدا کے جلال کا اظہار ہے خدا کی فطرت کا کامل مظہر ہے بیٹا تمام چیزوں کو اپنی قدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے وہ لوگوں کے گناہوں کو دھو کر آسمان میں خدا کے پاس داہنی طرف جا بیٹھا ۔

4

خدا نے اسکو اتنا بڑا اور عظیم نام دیا ایسا نام اس نے کسی فرشتہ کو بھی نہیں دیا اسطرح اسکی عظمت فرشتوں سے بڑھکر ہو ئی ۔

5

خدا نے یہ باتیں کسی فرشتے سے نہیں کہا کہ :”تم میرے بیٹے ہو آج میں تیرا باپ بن گیا” زبور۲:۷ اور خدا نے یہ بھی کبھی کسی فرشتے سے نہیں کہا ،”میں اس کا باپ ہو نگا اور وہ میرا بیٹا ہو گا “ ۲سموئیل۷:۱۴

6

اور جب خدا نے پہلو ٹھے بیٹے کو دنیا میں لایا تو کہا، “خدا سب کے فرشتے اسے سجدہ کرے۔” استثناء۳۲:۴۳

7

اور فرشتوں کی بابت یہ کہتا ہے کہ :”خدا اپنے فرشتوں کو ہوا کی مانند بنا تا ہے اور اپنے خادموں کو آ گ کے شعلوں کی طرح بناتا ہے “ زبور۱۰۴:۴

8

لیکن خدا نے اپنے بیٹے کو یہ کہا :”اے خدا تیرا تخت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیگا ۔ تمہاری بادشاہت میں انصاف کے ساتھ تم حکو مت کروگے ۔

9

تو نے انصاف سے محبت رکھی ،اور بدی سے نفرت۔ اسی سبب سے خدا یعنی ہمارے خدا نے خوشی کے تیل سے تیرے ساتھیوں کی بہ نسبت تجھے زیادہ مسح کیا ۔” زبور۴۵:۶۔۷

10

خدا نے یہ بھی کہا : “اے خدا وند ! تو نے ابتدا میں زمین کی بنیاد رکھی اور آسمان تیرے ہاتھ کی کاریگری ہے ۔

11

یہ تمام چیزیں غائب ہو جائیں گی لیکن تو باقی رہے گا اور سب چیزیں ایسی ہی پرا نی ہو جائیں گی جس طرح کپڑ ے

12

تم اس کو کوٹ کی مانند لپیٹ دو گے ۔ اور وہ کپڑوں میں تبدیل ہو جائینگے ۔لیکن تم کبھی نہیں بدل پاؤگے ۔ اور ہمیشہ کے لئے رہوگے ۔” زبور۱۰۲:۲۵۔۲۷

13

اور خدا نے فرشتوں میں سے کسی کے بارے میں یہ کبھی نہیں کہا :”میری داہنی جانب بیٹھو جب تک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں تلے کی چوکی نہ کر دوں” زبور۱۱۰:۱

14

تمام فرشتے روح ہیں جو خدا کی خدمت کر تے ہیں وہ ان لوگوں کی مدد کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔جو نجات کی میراث پا نے والے ہیں ۔