یوحنا 2

1

دو دن بعد گلیل میں شہر قانا میں ایک شادی ہو ئی جہاں یسوع کی ماں تھی ۔

2

یسوع اور اسکے ساتھی بھی شادی میں مدعو کئے گئے تھے ۔

3

شادی کی تقریب میں جب مئے ختم ہو گئی تب یسوع کی ماں نے کہا ، “ ان کے پاس مزید مئے نہیں ہے ۔”

4

یسوع نے اس سے کہا، “ اے عورت تم یہ نہ کہو کہ مجھے کیا کر نا ہے ؟ میرا وقت ابھی نہیں آیا ہے ۔ “

5

یسوع کی ماں نے نوکروں سے کہا ، “تم وہی کرو جو یسوع کرنے کو کہے ۔ “

6

اس جگہ چھ پتھر کے بڑے مٹکے رکھے تھے جنہیں یہودی صفائی طہارت کے لئے استعمال کرتے تھے ہر مٹکے میں ۲۰یا ۳۰ گیلن پا نی کی گنجا ئش تھی ۔

7

یسوع نے خدمت گزا روں سے کہا ، “ ا ن برتنوں کو پا نی سے بھر دو اور خدمت گاروں نے برتنوں کو پا نی سے لبریز کر دیا ۔

8

یسو ع نے ان خدمت گاروں سے کہا، “ اس میں سے تھو ڑا پا نی نکالو اور اس کو دعوت کے میر کے پاس لے جاؤ ۔” چنانچہ خدمت گاروں نے پانی کو دعوت کے میر کے پاس پیش کیا ۔

9

اور جب دعوت کے میر نے اس کا مزہ چکھا تو معلوم ہوا کہ پا نی مئے میں تبدیل ہو گیا تھا ان لوگوں نے یہ نہیں جانا کہ مئے کہاں سے آئی لیکن خدمت گار جو پا نی لائے تھے انہیں معلوم تھا کہ مئے کیسے آئی ۔ دعوت کے میر نے دولہا کو طلب کیا ۔

10

اور دولہا سے کہا ، “لوگ ہمیشہ پہلے بہترین مئے سے تواضع کرتے ہیں اور جب پی کر سیر ہو جا تے ہیں تب ناقص مئے دیتے ہیں لیکن تم نے عمدہ مئے اب تک بچا رکھی ہے ۔ “

11

یہ پہلا معجزہ تھا جو یسوع نے کیا ۔ اس معجزے کو اس نے گلیل کے شہر قا نا میں کیا اور اسطرح اپنی عظمت کو دکھا یا اور اسکے ساتھی ایمان لا ئے ۔

12

تب یسوع اپنی ماں بھائیوں اور شاگردوں کے ساتھ کفر نحوم کو گیا اور وہاں کچھ دن ٹھہرا ۔ (متّی۲۱:۱۲۔۱۳؛مرقس۱۱:۱۵۔۱۷؛لوقا۱۹:۴۵۔۴۶)

13

یہودیوں کی فسح قریب تھی چنانچہ یسوع یروشلم گئے ۔

14

یسوع یروشلم میں ہیکل گئے وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ وہاں مویشی بھیڑ کبوتر فروخت کر رہے ہیں ۔ اور دوسرے لوگ میز پر بیٹھے ہو ئے پیسوں کا تبادلہ کر رہے ہیں ۔

15

یسوع نے رسّیوں سے کو ڑا تیار کیا اور لوگوں کو ڈرا کر انہیں اور تمام مویشی بھیڑوں اور کبوتروں کو ہیکل کے باہر کر دیئے اور میز پر بیٹھے لوگوں کے پاس جا کر ان کی میز کو الٹ دیئے اور با ہر کر دیئے اور انکی رقم کو پھیلا دیئے ۔

16

تب یسوع نے ان لوگوں سے کہا جو کبوتر فروخت کر رہے تھے ، “ یہ سب کچھ لیکر یہاں سے نکل جاؤ ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کی جگہ نہ بناؤ ۔”

17

جب یہ واقعہ پیش آیا تب یسوع کے شاگردوں نے یاد کیا کہ صحیفوں میں جو لکھا ہے : “ تیرے گھر کی غیرت مجھے تباہ کر دیگی “ زبور۶۹:۹

18

یہودیوں نے یسوع سے کہا ڈ “ ہم کو کونسا ایسا معجزہ دکھا ؤ گے جو یہ ثابت کرے کہ تم ایسا کر نے کا حق رکھتے ہو ۔ “

19

یسوع نے جواب دیا ،” اس ہیکل کو تباہ کر دو میں اسکو پھر تین دن میں بنادونگا ۔” ۔

20

یہودیوں نے کہا،” لوگوں نے اس ہیکل کو بنانے میں ۴۶ سال لگا ئے ہیں کیا تمہیں یقین ہے کہ دوبارہ اسکو تین دن میں بناؤ گے ؟”

21

لیکن ہیکل کہنے سے یسوع کی مراد اپنا بدن تھا ۔

22

جب وہ مردوں میں سے زندہ ہوا تب اسکے شاگردوں کو یاد آیا کہ اس نے ایسا کہا تھا اور انہوں نے صحیفے پر اور یسوع کے قول پر ایمان لایا ۔

23

جب یسوع فسح کی تقریب پر یروشلم میں تھے کئی لوگوں نے اُس کے معجزوں کو دیکھ کر یسوع پر ایمان لا ئے ۔

24

لیکن یسوع نے ان پر بھروسہ نہیں کیا کیوں کہ یسوع کو وہ تمام لوگ معلوم تھے ۔

25

یسوع یہ ضروری نہیں سمجھا کہ کوئی اسے لوگوں کے بارے میں بتا ئے اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ ان لوگوں کے دماغوں میں کیا ہے ۔