لوقا 8

1

دوسرے دن یسوع چند شہروں اور گاؤں سے گزرتے ہوئے لوگوں میں تبلیغ کرنے لگے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دینے لگے بارہ رسول بھی انکے ساتھ تھے ۔

2

چند عورتیں بھی انکے ساتھ تھیں یہ عورتیں ان سے بیماریوں میں صحت پائی ہوئی تھیں اور بد روحوں سے چھٹکارہ پائی ہوئی تھیں ان عورتوں میں سے ایک مریم تھی جو مگدلینی گاؤں کی تھی یسوع اس پر سے سات بد روحوں کو نکال باہر کیا تھا ۔

3

اس کے علاوہ خوزہ (ہیرودیس کا مدد گار) جس کی بیوی یوانہ ،سوسناہ اور دوسری بہت سی عورتیں تھیں یہ عورتیں یسوع کی اور اسکے رسولوں کی اپنی رقم سے مدد کیا کرتی تھیں ۔ (متّی۱۳:۱۔۱۷؛مرقس۴:۱۔۱۲)

4

بہت سے لوگ مختلف گاؤں سے یسوع کے پاس اکٹھا ہو کر آئے تب یسوع نے ان لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی ۔

5

“ ایک کسان بیج بونے کے لئے کھیت میں گیا جب وہ تخم ریزی کر رہاتھا تو چند بیج پیدل چلنے کی راہ میں گر گئے اور لوگوں کے پیروں تلے روندے گئے اور پھر پرندے آئے اور ان دانوں کو چگ گئے ۔

6

چند بیج پتھر کی چٹان پر گر گئے اور اُ گ بھی گئے مگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سو کھ گئے۔

7

چند بیج خاردار جھاڑیوں میں گر گئے وہ اُ گ تو گئے لیکن خاردار جھاڑیاں انکے برا بر بڑھنے لگے اور ان کا گلا گھو ٹنے لگے اس کی وجہ سے پنپ نہ سکے۔

8

چند بیج جو عمدہ اور زرخیز زمین میں گرے یہ بیج اُ گ کر سبزشاداب ہو کر سو گنا زیادہ فصل بھی دی۔” یسوع نے اس تمثیل کو بیان کر نے کے بعد کہا،” میری باتوں پر غور کر نے والے لوگوسنو ۔”

9

شاگردوں نے اس سے دریافت کیا کہ “ اس تمثیل کا کیا مطلب ہے؟۔”

10

یسوع نے ان سے کہا تم کو خدا کی بادشاہت کے بھیدوں کو سمجھنا چاہئے اس لئے اس کام کے لئے تمہیں منتخب کیا گیا ہے۔ لیکن میں دوسروں کو تمثیلوں کے ذریعے سمجھا تا ہوں کیو نکہ وہ دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والوں کی طرح ہونگے : اور وہ کان سے سن کر بھی نہ سننے والوں کی مانند ہونگے یسعیاہ۶:۹ ( متیّ ۱۳: ۱۸۔۲۳؛ مرقس۴:۱۳۔۲۰)

11

یہاں اس تمثیل کے معنی اسطرح ہیں، بیج سے مراد خدا کی تعلیمات ہیں۔

12

راستے پر گرے ہوئے بیج سے کیا مراد ہے؟ خدا کی تعلیمات کو کچھ لوگ سنتے ہیں لیکن شیطان آکر ان کے دلوں میں سے اس کلام کو باہر نکال دیتاہے اس تعلیمات پر انکا ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ خدا کی پناہ سے محروم ہوتے ہیں ۔

13

“ پتھّر کی چٹان پر گرنے والے بیج کا کیا مطلب ہے؟ چند لوگ خدا کی تعلیمات کو سن کر بہت ہی سکون سے اسکو قبول کرتے ہیں لیکن ان کے لئے گہرائی تک جا نے والی جڑیں نہیں ہوتیں چونکہ وہ ایک مختصر مدت کے لئے ہی اس پر ایمان لاتے ہیں تب کچھ مصائب میں گھر جاتے ہیں تو اپنے ایمان کو کھو دیتے ہیں اور خدا سے دور ہو جا تے ہیں ۔

14

خاردار جھاڑیوں میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟ بعض لوگ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں ۔ لیکن وہ دنیا کی فکروں اور مال و دولت اور زندگی کے سکون و چین کو ترجیح دیتے ہیں اس وجہ سے بڑھنے سے رک جاتے ہیں اور پھل نہیں پاتے اور با مراد نہیں ہو تے ۔

15

زرخیز زمین میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے ،؟بعض لوگ اچھے اور نیک دلی کے ساتھ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں خدا کی تعلیمات کی اطاعت بھی کرتے ہیں صبر و برداشت کے ساتھ اچھے پھل دیتے ہیں ۔

16

“ کوئی بھی شخص چراغ جلا کر اس کو کسی برتن کے اندر یا کسی پلنگ کے نیچے چھپا کر نہیں رکھتا حالانکہ گھر میں آنے والوں کو روشنی فراہم کرنے کے لئے وہ اسکو شمعدان پر رکھتا ہے ۔

17

روشنی میں نہ آنے والا کوئی راز ہی نہیں ہے اور ظاہر نہ ہونے والا کوئی بھید نہیں ہے ۔

18

اسی وجہ سے جب تم کسی بات کو سنو تو ہوشیار رہو ایک شخص جو تھوڑی سمجھ رکھنے والا ہو زیادہ دانش مندی حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ شخص جس میں سمجھ داری نہ ہو اپنے خیال میں جو سمجھ داری ہے اس کو بھی کھو دیتا ہے۔” (متّی۱۲:۴۶۔۵۰؛مرقس۳:۳۱۔۳۵)

19

یسوع کی ماں اور انکے بھائی ان سے ملاقات کے لئے آئے وہاں پر بہت لوگ جمع تھے ۔ جس کی وجہ سے یسوع کی ماں اور ان کے بھائی کو انکے قریب جانا ممکن نہ ہو سکا وہاں پر موجود ایک آدمی نے یسوع سے کہا ۔

20

“ آپکی ماں اور آپکے بھائی باہر کھڑے ہیں وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔”

21

یسوع نے جواب دیا ، “خدا کی تعلیمات کو سن کر اس پر عمل پیرا ہو نے والے لوگ ہی میری ماں اور میرے بھا ئی ہیں ! “ ( متّی۸:۲۳۔۲۷؛مرقس ۴: ۳۵۔۴۱)

22

ایک دن یسوع اور انکے شاگرد کشتی پر سوار ہوئے یسوع نے کہا ، “آؤ جھیل کے اس پار چلیں” اس طرح وہ اس پار کے لئے نکلے ۔

23

جب وہ جھیل میں کشتی پر جا رہے تھے تو یسوع کو نیند آ نے لگی اس طرف جھیل میں تیز ہوا کا جھونکا چلنے لگا اور کشتی میں پانی بھر نے لگا اور تمام کشتی سواروں کو خطرہ کا سامنا ہوا ۔

24

تب شاگردوں نے یسوع کے پاس گئے انکو جگا کر کہا ، “ صاحب صاحب ۱ ہم سب ڈوب رہے ہیں” فوراً یسوع اٹھ بیٹھے اور انہوں نے ہوا کی لہروں کو حکم دیا تب آندھی رک گئی اور جھیل میں سکوت چھا گئی ۔

25

یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا ، “ تمہارا ایمان کہاں گیا؟” شاگرد خوف زدہ ہو تے ہوئے حیرانی سے ایک دوسرے سے کہنے لگے” یہ کون ہو سکتا ہے؟یہ ہوا کو اور پانی کو حکم دیتا ہے اور وہ اسکی اطاعت کر تے ہیں ۔” ( متّی۸:۲۸۔۳۴؛متّی۵:۱۔۲۰)

26

یسوع اور انکے شاگردوں نے گلیل سے جھیل پار کر کے گراسینیوں کے علاقے کا سفر کیا ۔

27

جب یسوع کشتی سے اترے تو اس شہر کا ایک آدمی یسوع کے نزدیک آیا اس آدمی پر بد روح سوار تھی ایک لمبے عرصہ سے وہ کپڑے ہی نہ پہنتا تھا اور گھر میں نہیں رہتا تھا اور قبروں کے درمیان رہتا تھا ۔

28

[This verse may not be a part of this translation]

29

[This verse may not be a part of this translation]

30

یسوع نے اس سے پوچھا “ تیرا نام کیا ہے ؟” اس نے جواب دیا” لشکر “ کیوں کہ اس میں بہت سی بد رُوحیں جمع ہوئی تھیں ۔

31

بد روحوں نے یسوع سے بھیک مانگی کہ وہ انکو مقام ارواح میں نہ بھیجے ۔

32

وہاں پر ایک پہاڑ تھا پہاڑ کے اوپر سؤروں کا ا یک غول چر رہا تھا ا ن بد روحوں نے یسوع سے اجازت چاہی کہ انکو سؤروں میں جا نے دے تب یسو ع نے انکو اجازت دی ۔

33

تب بد روحیں اس آدمی سے باہر نکل کر سؤروں میں شامل ہو گئیں تب ایسا ہوا کہ سوروں کا غول پہاڑ کے نیچے د وڑتے ہو ئے جاکر جھیل میں گر پڑا اور ڈوب گیا ۔

34

سؤروں کو چرا نے والے بھا گ گئے اور یہ خبر شہروں میں اور گاؤں میں پھیل گئی ۔

35

اس واقعے کو جاننے کے لئے لوگ یسوع کے پاس آئے انہوں نے آدمی کو دیکھا جس پر سے بد روح نکل گئی تھی وہ کپڑے پہنے ہوئے تھا اور یسوع کے قدموں کے پاس بیٹھا تھا ۔ اور وہ اپنے ہوش و حواس میں تھا ۔ لوگ خوف زدہ ہوئے ۔

36

یسوع نے جس طریقے سے اس آدمی کو شفاء دی اور جنہو ں نے اسے دیکھا انہوں نے اس آدمی کو دیکھنے آئے ہو ئے دیگر لوگوں سے واقعہ کے تفصیل سناتے رہے۔

37

تب گرا سینیوں ضلع کے تما م لوگوں نے یسوع سے التجا کی آپ یہاں سے تشریف لے جائینگے کیوں کہ وہ سب بہت ڈرے ہو ئے تھے اس وجہ سے یسوع کشتی میں سوار ہوئے اور پھر گلیل کو وا پس لوٹے۔

38

بد روحوں سے چھٹکا رہ پا نے والے نے یسوع سے التجا کی کہ مجھے بھی تو اپنے ساتھ لے جا ۔ یسوع نے یہ کہتے ہو ئے روانہ کیا۔”

39

“ تو اپنے گھر کو واپس ہوجا اور خدا نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا انکو لوگوں تک سنا ۔” اس طرح کہکر اس نے اسکو بھیج دیا ۔ وہ آدمی وہاں سے چلا گیا ۔ اور گاؤں کے سب لوگوں سے جو کچھ یسوع نے کیا وہ کہنا شروع کیا ۔ “ ( متّی۹:۱۸۔۲۶؛مرقس۵:۲۱۔۴۳)

40

جب یسوع گلیل کو واپس لوٹے تو لوگوں نے انکا استقبال کیا ہر ایک انکا انتظار کر رہے تھے ۔

41

یائیر نام کا ایک شخص یسوع کے پاس آیا وہ یہودی عبادت گاہ کا قائد تھا وہ یسوع کے قدموں پر جھک کر اپنے گھر آنے کی گزارش کر نے لگا ۔

42

اس کی اکلوتی بیٹی تھی وہ بارہ سال کی تھی اور بستر مرگ پر تھی ۔ جب یسوع یائیر کے گھر جا رہے تھے تو لوگ انکو ہرطرف سے گھیرے ہوئے آئے ۔

43

ایک ایسی عورت وہاں تھی جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا ۔ وہ اپنی ساری رقم طبیبوں پر خرچ کر چکی تھی لیکن کوئی بھی طبیب اس کو شفاء نہ دے سکا ۔

44

وہ عورت یسوع کے پیچھے آئی اور اسکے چوغے کے نچلے دامن کو چھوا فوراً اسکا خون بہنا رک گیا ۔

45

تب یسوع نے” پوچھا مجھے کس نے چھوا ہے ؟” جب سب انکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا ،”اے خدا وند کئی لوگ آپکے اطراف ہیں اور تجھ دھکیل رہے ہیں ۔ “

46

اس پر یسوع نے کہا، “ کسی نے مجھے چھوا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ جسم سے قوت نکل رہی ہے ۔”

47

اس عورت نے یہ سمجھا کہ اب اس کے لئے کہیں چھپے بیٹھے رہنا ممکن نہیں تو وہ کانپتے ہوئے اس کے سامنے آئی اور جھک گئی پھر اس عورت نے یسوع کو چھو نے کی وجہ بیان کی اور کہا کہ اسکو چھو نے کے فوراً بعد ہی وہ تندرست ہو گئی ۔

48

یسوع نے اس سے کہا، “ بیٹی تیرے ایمان کی وجہ سے تجھے صحت ملی ہے سلامتی سے چلی جا ۔”

49

یسوع باتیں کر ہی رہے تھے ایک یہودی عبادت گاہ کے قائد کے گھر سے ایک شخص آیا اور کہا، “ کہ تیری بیٹی تو مر گئی ہے اب تعلیم دینے والے کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے ۔ “

50

یسوع نے یہ سنکر یائیر سے کہا ، “ ڈرو مت ایمان کے ساتھ رہو تیری بیٹی اچھی ہو گی ۔”

51

یسوع یائیر کے گھر گئے وہ صرف پطرس یوحنا یعقوب اور لڑکی کے باپ اور ماں کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دی یسوع نے کہا دوسرے کوئی بھی اندر نہ آئے ۔

52

بچی کی موت پر سب لوگ رو رہے تھے اور غم میں مبتلاء تھے لیکن یسوع نے ان سے کہا، “ مت رو نا وہ مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے ؟ “

53

تب لوگ یسوع پر ہنسنے لگے اس لئے کہ ان لوگوں کو یقین تھا کہ لڑکی مرگئی ہے ۔

54

لیکن یسوع نے اس لڑ کی کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، “ننھی لڑکی اٹھ جا ! “

55

اسی لمحہ لڑکی میں روح واپس آئی وہ اٹھ کھڑی ہوئی یسوع نے ان سے کہا، “ اس کو کھانے کے لئے کچھ دو ۔ “

56

لڑکی کے والدین تعجب میں پڑ گئے یسوع نے انکو حکم دیا کہ وہ اس واقعہ کو کسی سے نہ کہیں ۔