لوقا 17

1

یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” لوگوں کو گنا ہوں میں ملوث کر نے کے بہت سے واقعات تو پیش آئیں گے لیکن افسوس کون ان چیزوں کا سبب ہو گا ۔

2

وہ شخص کہ جوان کمزوروں کو گناہوں کی راہوں پر لے جاتا ہے وہ اپنے گلے میں ایک بڑے پتھر کو باندھ لے اور سمندر میں ڈوب جا ئے۔

3

اس لئے ہوشیار رہو “ اگر تیرا بھا ئی گناہ کا کام کرے اس کو ڈانٹ دو اگر اتفاق سے اپنے گناہوں پر نادم ہو تو اسے معاف کر ۔

4

اور کہا کہ اگر تیرا بھائی تیرے ساتھ دن میں سات بار بھی غلطی کرے اور تجھ سے ہر مرتبہ آ کے کہے کہ معاف کر توتجھے اسے معاف کر نا چا ہئے۔”

5

رسولوں نے خداوند سے کہا ،” ہمارے ایمان میں اضافہ کر۔”

6

خداوند نے ان سے کہا ،” اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برا بر بھی ہو تا تو تم شہتو ت کے درخت سے کہتے کہ یہاں سے اکھڑ کر جا اور سمندر میں گر جا تو بھی تمہارا فرمانبر دار ہو تا ۔”

7

“ یہ سمجھو کہ تمہا رے پاس کھیت میں کام کر نے کے لئے ایک نوکر ہے کہ جو زمین میں ہل جو تتا ہے یا بکریوں کو چراتاہے وہ نو کر کھیت میں کام ختم کر کے جب گھر لوٹتا ہے تو اس سے تو کیا کہے گا ؟اندر آؤ! اور کھا نے کے لئے بیٹھ جا ؟۔

8

کبھی نہیں! تو اس سے کہے گا کہ میرے لئے شام کا کھانا پکا اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آؤ اور میرے لئے کھا نا چن دے اور میرے کھا نے پینے کے بعد تو بھی کھا نا کھا لے ۔

9

وہ نو کر جس نے اپنی خدمت انجام دی ہے اس کے لئے تجھے اس کا کوئی خصوصی شکریہ ادا کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں کیوں کہ نو کر ہو تا ہی ہے تا کہ وہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کرے۔

10

بس یہی حکم تم پر بھی لا گو ہو تا ہے کہ تمہا رے سپرد کئے گئے کا موں کو تم پورا کرو اور کہو کہ ہم تو صرف نو کر ہیں اور ہما رے فرض کو ہم نے انجام دیا ہے ۔”

11

یسوع یروشلم سے سفر کرتے ہوئے گلیل سے سامریہ کو چلے گئے ۔

12

وہاں وہ ایک گاؤں میں پہنچے۔ وہاں پر دس آدمی اس سے ملے اور وہ یسوع کے قریب نہ آئے کیوں کہ وہ سب کوڑھی تھے۔

13

“ وہ یسوع کو بلند آواز سے پکا ر نے لگے اور کہنے لگے کہ “ خداوند مہر بانی کر کے ہماری مدد فرما۔”

14

یسوع نے ان کو دیکھا اور کہا،” جاؤ اور تم اپنے کاہنوں کو دکھا ؤ۔ “ جب وہ دس آدمی کا ہنوں کے پاس جا رہے تھے تب ان کو شفاء ہوئی۔

15

پھر ان میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ میں شفاء پاگیا یسوع کے پاس لوٹ کر آیا اور بُلند آواز میں خدا کی تعریف کی ۔

16

وہ یسوع کے قدموں میں جھک گیا اور اس کا شکریہ ادا کیا ۔

17

یسوع نے پوچھا ،” دس آدمیوں کو شفاء ہو ئی ! دوسرے نو کہاں ہیں؟۔

18

پھر پوچھا خدا کا شکر ادا کر نے کے لئے اس سامری کے علا وہ کو ئی دوسرا نہیں آیا؟۔”

19

تب یسوع نے اس سے کہا “اٹھ اور اب تو گھر چلا جا ! اور کہا کہ چونکہ تو نے ایمان لا یاجسکی وجہ سے تجھے شفاء ہوئی۔” (متیّ۲۴:۲۳۔۲۸؛۳۷۔۴۱)

20

فریسیوں میں سے بعض نے یسوع سے پوچھا ،” خدا کی بادشاہت کب آئے گی ؟ “ یسوع نے جواب دیا ،” خدا کی بادشاہت تو آئے گی لیکن وہ اس طرح آئے گی تمہا ری آنکھوں کو نظر نہ آئیگی۔

21

لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ دیکھو ! خدا کی باد شاہت یہاں ہے ! وہ تو وہاں ہے ! خدا کی باد شاہت تمہا رے ہی اندر ہے۔”

22

تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” تمہا رے لئے وہ دن آئے گا کہ جب ابن آدم کے دنوں میں سے ایک دن کے دیکھنے کی خواہش کرو گے لیکن تم اس کو دیکھ نہ سکو گے ۔

23

لوگ تم سے کہیں گے کہ دیکھو وہ وہاں ہے یا دیکھو وہ یہاں ہے ! تم جہاں پر رہو وہیں رہو انکے پیچھے جا تے ہوئے اسے مت ڈھونڈو۔

24

“ جب ابن آدم دوبارہ آئینگے تو تمہیں معلوم ہو گا ۔آسمان کے ا یک طرف سے دوسری طرف بجلی چمکنے کی طرح وہ آئے گا۔

25

لیکن اس سے پہلے ابن آدم کئی تکالیف برداشت کریں گے اور اس دور کے لوگوں کی طرف سے رد کر دیاجا ئے گا ۔

26

ابن آدم لوٹ کر آنے کی دنوں میں اس دنیا کی حالت ایسی ہی ہوگی جیسے کہ نوح کے زمانے میں تھی۔

27

نوح کے زمانے میں لوگ کھا تے پیتے اور شادیاں رچا تے رہے۔نوح کی کشتی میں داخل ہو نے کے دن میں بھی وہ ویسا ہی کیا کرتے تھے تب سیلاب آیا اور تمام لوگوں کو ہلا ک کر دیا ہے ۔

28

لوط کے زما نے میں بھی خدا نے جب سدوم کو ہلا ک کیا تو حا لا ت بس اسی طرح کے تھے۔جبکہ وہ لوگ کھا تے پیتے خرید وفروخت اور تجارت کرتے تخم ریزی کرتے اور خود کی رہا ئش کے لئے گھروں کی تعمیر میں مصروف تھے ۔

29

جس دن لوط اس شہر کو چھوڑ کر جا رہے تھے ۔ تو ان دنوں بھی لوگ ویسے ہی کھا پی رہے تھے تب ایسا ہوا کہ آسمان سے گندھک اور آ گ کی بارش برس نے لگی اور وہ سب ہلاک ہوئے۔

30

ابن آدم جب دوبارہ لوٹ کر آئیں گے تو دنیا کی حالت بالکل اسی طرح ہوگی ۔

31

پھر ابرا ہیم نے اس سے دو بارہ کہا “نہیں ! تمہارے بھا ئی موسٰی کی اور نبیوں کی نہیں سنی ۔ تو وہ مر دوں میں دو بارہ جی اٹھنے والے کی بات پر کبھی بھی تو بہ نہ کریں گے ۔ “ (متّی۱۸:۶۔۷؛۲۱۔۲۲؛مرقس۹:۴۲)

32

لوط کی بیوی کو جو واقعہ پیش آیا کیا وہ یاد ہے ؟

33

اپنی جان کو بچانے کی کوشش کر نے والا اس کو کھو دیگا لیکن جو اپنی جان کوقربان کر نے والا ہوگا تو وہ اس کو بچا ئے گا ۔

34

اس وقت اگر ایک کمرے میں دو آدمی سو بھی گئے ہوں تو ان میں سے ایک کو اٹھا لیا جائیگا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائیگا ۔

35

کہیں پر اگر دو عورتیں ایک ساتھ مل کر اناج پیس رہی ہوں تو ان میں سے ایک کو لے لی جا ئے گی اور دوسری کو چھو ڑ دی جا ئے گی ۔”

36

[This verse may not be a part of this translation]

37

[This verse may not be a part of this translation]