مرقس 11

1

یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم کے قریب تک آچکے تھے ۔ وہ زیتون کے پہاڑ کے قریب بیت فگے اور بیت عنیاہ جیسے قریوں کے پاس آئے وہاں سے یسوع نے اپنے شاگر دوں میں سے دو کو کچھ کر نے کے لئے روانہ کیا ۔

2

یسوع نے شاگر دوں سے کہا ، وہاں نظر آنے والے گاؤں کو چلے جاؤ ۔جب تم اس گاؤں میں داخل ہونگے تو وہاں تم ایک ایسے گدھے کے بچے کو بندھا ہوا پاؤگے کہ جس پر کبھی کسی نے سواری نہ کی ہو ۔ اس گدھے کو کھول کر میرے پاس لاؤ ۔

3

اگر تم سے کوئی پوچھے کہ ایسا کیوں کر رہے ہو تو کہنا کہ خداوند کو اس کی ضرورت ہے ۔ اور وہ اسکو بہت جلدی واپس بھیج دیگا ۔”

4

شاگرد جب گاؤں میں داخل ہوئے تو راستے میں ملنے والے ایک گھر کے کنارے بندھے ہوئے ایک گدھے کے بچے کو انہوں نے دیکھا ، شاگر دوں نے جاکر اس گدھے کو کھولا تو۔

5

وہاں کھڑے ہو ئے چند لوگوں نے پوچھا ، تم کیا کر رہے ہو ؟ اور اس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو ؟”

6

یسوع نے جو کچھ شاگر دوں سے کہا تھا وہ ویسے ہی جواب دیئے ۔ لہذا لوگوں نے اس گدھے کو شاگردوں کو لیجا نے دیا ۔

7

شاگردوں نے گدھے کو یسوع کے پاس لایا اور اپنے کپڑے اس کے اوپر ڈال دیئے تب یسوع اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے ۔

8

بہت سارے لوگوں نے یسوع کے لئے راستے پر اپنے کپڑے بچھا دیئے اور دوسرے چند لوگوں نے درختوں کی شاخیں راستے پر پھیلا دیں ۔جسے انہوں نے درختوں سے کاٹی تھی ۔

9

بعض لوگ یسوع کے سامنے جا رہے تھے ۔ اور بعض لوگ اس کے پیچھے جا رہے تھے ۔اور تمام لوگوں نے نعرے لگائے کہ اس کی تعریف بیان کرو “خداوند کے نام سے آنے والے کو خدا مبارک کہے ! زبور ۱۸ ۱: ۲۵۔۲۶

10

خدا کی رحمت ہمارے باپ داؤد کی سلطنت پر ہو اور وہ سلطنت آرہی ہے ۔خدا کی تعریف آسمان میں کرو ۔”

11

یسوع جب یروشلم میں داخل ہوئے وہ ہیکل کو گئے اور وہاں کی ہر چیز کو دیکھا لیکن اس وقت تک دیر ہو گئی تھی ۔اس لئے یسوع بارہ رسولوں کے ساتھ بیت عنیاہ کو گئے ۔

12

دوسرے دن جب یسوع بیت عنیاہ سے جا رہے تھے تو اسے بھوک لگی تھی ۔

13

اس نے کچھ فاصلے پر پتّوں سے بھرا ایک انجیر کے درخت کو پایا ۔ وہ یہ سمجھ کر کہ درخت میں کچھ انجیر ملیں گے اس کے قریب گئے لیکن درخت میں وہ انجیر نہ پا یا ۔وہاں صرف پتّے تھے ۔کیوں کہ وہ انجیر کا موسم ہی نہ تھا ۔

14

تب یسوع نے اس درخت سے کہا ، “ اس کے بعد پھر لوگ تیرے میوے کبھی نہیں کھا ئیں گے” ۔ شاگردوں نے یسوع کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ۔ (متّی ۲۱:۱۲۔۱۷ ؛لوقا۱۹:۴۵ ۔۴۸؛ یوحنا ۲:۱۳ ۔۲۲ )

15

یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم پہونچے یسوع ہیکل میں دا خل ہوئے وہاں انہوں نے لوگوں کی خرید و فروخت کو دیکھا اور سودا گروں کی میز کی طرف پلٹا جو مختلف قسم کی رقم کا تبادلہ کر رہے تھے اور ہیر پھیر کر کے روپیہ جمع کر رہے تھے اور کبوتر فروخت کر رہے تھے ۔

16

اس نے کسی کو بھی ہیکل کے راستے سے چیزوں کو لا نے لے جا نے کی اجا زت نہ دی ۔

17

اس کے بعد یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی کہ” میرا مرکز اور ٹھکا نہ تمام لوگوں کے لئے عبادت خانہ کہلا ئیگا “ اس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے اور کہا کہ تم لوگوں نے خدا کے گھر کو چوروں کے چھپے رہنے کی جگہ بنا لی ہے “

18

سردار کاہنوں اور معلّمین شریعت نے ا ن واقعات کو سن کر یسوع کو قتل کرا نے کے لئے مناسب تدبیر کی فکر شروع کردی ۔ وہ یسوع کی تعلیمات کو سن کر بے انتہا حیرت زدہ ہونے کی وجہ سے یسوع سے گھبرا گئے ۔

19

اس رات یسوع اور اس کے شاگرد وں نے شہر چھو ڑدیا۔ (متیّ۲۱:۲۰ ۔۲۲)

20

دوسرے دن صبح یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے۔پچھلے دن جس انجیر کے درخت کو یسوع نے بد دعا دی تھی اس کو شاگردوں نے دیکھا وہ انجیر کا درخت جڑ سمیت سوکھ گیاتھا۔

21

پطرس نے اس درخت کو یاد کر کے یسوع سے کہا ، “ استاد دیکھو ! کل جس انجیر کے درخت پر آپ نے لعنت کی تھی وہ درخت اب سوکھ گیا ہے”۔

22

یسوع نے کہا ،” خدا پر ایمان رکھو ۔

23

میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں ۔تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جا کر سمندر میں گر جا اگر تم بغیر شک وشبہ کے یقین کرو۔ تو تم نے جو کچھ کہا ہے وہ یقیناً پورا ہوگا۔خدا تمہارے لئے اس کو مبارک کریگا ۔

24

میں تم سے کہتا ہوں کہ تم دعا کرو۔اور عقیدہ رکھو کہ وہ سب مل جا ئے گا تو یقین کرو کہ وہ تمہا را ہی ہو گا۔

25

اور یہ کہتے ہو ئے جواب دیا کہ جب تم دعا کر نے کی تیاری کرو اور تم کسی پر کسی وجہ سے غصہّ اور ناراض ہو، اور اگر یہ بات تمہیں یاد آئے تو اس کو معاف کر دو تا کہ آسمان پر رہنے والا تمہارا باپ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا”۔

26

(متیّ۲۱:۲۳۔۲۷؛ لوقا۲۰:۱۔۸)

27

یسوع اور اس کے دو شاگرددوبارہ یروشلم گئے۔یسوع جب ہیکل میں چہل قد می کر رہے تھے تو سردار کاہن اورمعلمین شریعت اور بزرگ یہودی قائدین اس کے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔

28

وہ دریافت کر نے لگے، “ ایسا کو نسا اختیار آپکے پاس ہے کہ جس کی بنا پر آپ یہ سب کچھ کر تے ہیں ؟اور یہ اختیار آ پ کو کس نے دیا ہے” ؟ ہمیں بتا ئیں۔

29

یسوع نے ان سے کہا میں بھی تم سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں ۔اگر تم میرے سوال کا جواب دو گے تو میں تم کو بتا ؤنگا کہ میں کس کے اختیار سے یہ سارے کام کرتا ہوں۔

30

مجھے معلوم کراؤ کہ یوحنا ّ نے لو گوں کو جو بپتسمہ دیا تو کیا وہ خدا کے اختیار سے تھا یا لوگوں کے اختیار سے”؟

31

یہودی قائدین اس سوال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے کہنے لگے” اگر ہم یہ کہیں کہ یوحناّ نے کوگوں کو خدا کے آئے ہوئے اختیار سے بپتسمہ دیا تو پھر یسوع پوچھے گا کہ تم یوحناّ پر ایمان کیوں نہیں لائے؟ “

32

اگر یہ کہیں کہ یو حنا ّ نے لوگوں کے اختیار سے بپتسمہ دیا تو اس وقت لوگ ہم پر غصّہ ہوں گے “چونکہ لوگوں کا ایمان ہے کہ یوحناّ نبی تھے۔اس طرح وہ آپس میں باتیں کر نے لگے۔جس کی وجہ وہ لوگوں سے خوفزدہ رہے۔

33

[This verse may not be a part of this translation]