مرقس 1

1

[This verse may not be a part of this translation]

2

یسعیاہ نبی نے اس طرح لکھا ہے : “ سنو ! میں اپنے پیغمبر کو تجھ سے پہلے بھیج رہا ہوں ۔وہ تیرے لئے راہ کو ہموار کریگا “۔ ملاکی ۱:۳

3

“خداوند کے لئے راہ کو ہموار کرو اس کی راہ کو سیدھی بناؤ اس طرح صحرا میں ایک شخص آواز لگا رہا ہے “ یسعیاہ ۳:۴۰

4

اسی طرح یوحنا بپتسمہ (اصطبا غ ) دینے والے نے جنگل میں آکر لوگوں کو بپتسمہ دیا “ تم اپنے گناہوں پر توبہ کرتے ہوئے خدا کی طرف رجوع ہوکر بپتسمہ لو ۔ تب ہی تمہارے گناہ معاف ہونگے ۔

5

اہلیان یہوداہ اور یروشلم یوحنا کے پاس آ ئے اور اپنے گنا ہوں کا اعتراف کیا ۔ اس وقت یوحنا نے انکو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا ۔

6

یوحنا اونٹ کے بالوں کا بُنا ہوا اوڑھنا اوڑ ھ کر کمر میں چمڑے کا کمر بند باندھ لیتا تھا ۔ وہ ٹڈیا ں اور جنگلی شہد کھا تا تھا ۔

7

یوحناّ لوگوں کو وعظ دیتا “ میرے بعد آنے والا مجھ سے زیادہ طاقت ور ہوگا میں جھک کر اس کی جوتیوں کی تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں “۔

8

میں تمکو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ تم کو مقدس روح سے بپتسمہ دیگا

9

ان دنوں یسوع گلیل کے ناصرت سے یوحنا کے پاس آیا یوحنا نے یسوع کو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا ۔

10

جب یسوع پانی سے اوپر آ رہے تھے اس نے دیکھا آسمان کھلا اور روح القدس ایک کبوتر کی مانند اسکی طرف آرہا تھا ۔

11

تب آسمان سے ایک آواز آئی “ توہی میرا چہیتا بیٹا ہے ۔میں تجھ سے خوش ہوں “۔

12

اس وقت روح نے یسوع کو صحرا میں بھیج دیا ۔

13

یسوع وہا ں چالیس دن کی مدت تک درندوں کے ساتھ بسر کر کے شیطان سے آزمایا گیا ۔ تب فرشتے آئے اور یسوع کی مدد کی ۔

14

یو حنا کو جب قید کیا گیا یسوع نے گلیل جا کر لوگوں کو خدا کی خوش خبری دی۔

15

“وقت پورا ہو گیا ہے۔خدا کی باد شا ہت قریب آ گئی ہے اپنے گنا ہوں پر توبہ کر کے خداوند کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور خوش خبری پر ایمان لاؤ”۔

16

یسوع نے گلیل کی جھیل کے نز دیک سے گذ رتے وقت شمعون اوراسکے بھا ئی اندریاس کو دیکھا۔یہ دونوں ماہی گیر تھے یہ مچھلی کا شکار کر نے جھیل میں جال پھینک رہے تھے۔

17

یسوع نے کہا “آ ؤ میرے پیچھے چلو میں تمکو دُوسرے ہی قسم کا ماہی گیر بناؤں گا ۔اس کے بعد تم لوگوں کو پکڑو گے نہ کہ مچھلیوں کو”۔

18

اس وقت وہ اپنے جالوں کواسی جگہ چھوڑ کراس کے پیچھے ہو لئے ۔

19

یسوع گلیل جھیل کے کنارے گھوم پھر ہی رہے تھے کہ انھوں نے زبدی کے بیٹوں یعقوب اور یوحنا نامی دونوں بھائیوں کو دیکھا جو اپنی کشتی میں مچھلیوں کا شکار کر نے کے لئے جالوں کو درست کر رہے تھے۔

20

انکے باپ زبدی اور مز دور بھی بھائیوں کے ساتھ کشتی میں تھے۔یسوع نے اُن کو فوراً بلایا وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر فوراً ہی یسوع کے پیچھے ہولئے۔ (لوقا۳۷-۳۱:۴)

21

سبت کے دن یسوع اور اس کے شاگرد کفر نحوم گئے۔ سبت کے دن یہو دی عبادت گاہ میں جاکر وہ لوگوں کو وعظ کر نے لگے۔

22

یسوع کی تعلیمات سن کر لوگ حیران ہوئے ۔وہ ان کو شریعت کے استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک حاکم کی طرح تعلیم دینے لگا۔

23

یسوع جب یہودی عبادت گاہ میں تھے تو بدروح کے اثرات سے متاثر ایک آدمی وہاں موجود تھا۔

24

وہ چلایا اے یسوع ناصری ! تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟کیا تو ہمیں تباہ کر نے کے لئے آیا ہے؟مجھے معلوم ہے تو خدا کی جانب سے آیا ہوا مقدس ہے”۔

25

یسوع نے ڈانٹا “چپ رہ اس میں سے نکل کر باہر آجا”

26

بدروح اس سے پنجہ آز مائی کر تے ہوئے اور پورے زورو شور سے چلا تے ہوئے اس میں سے نکل کر باہر آئی۔

27

حاضرین حیران و ششدر ہوگئے۔وہ آ پس میں سوال کر نے لگے “یہ کیا معاملہ ہے؟ یہ ایک نئی تعلیم ہے۔یہ صاحب مقتدر ہو کر تلقین کرتا ہے!حتیٰ کے بدروحوں تک پر حکم چلاتا ہے اور وہ روحیں فرمانبردارہو جاتی ہیں

28

یسوع کی یہ ساری خبر گلیل کے علا قے میں ہر سمت پھیل گئی۔ (متی ۱۷-۱۴:۸؛لوقا۴: ۳۔۴۱)

29

یسوع اور انکے شاگرد یہو دی عبادت گاہ سے نکل کر یعقوب اور یوحنا کے ساتھ شمعون اور اندریاس کے گھر گئے۔

30

شمعون کی ساس بخار میں مبتلا تھی۔وہاں کے لوگوں نے اس کے بارے میں یسوع سے عرض کی ۔

31

اس طرح یسوع نے مریضہ کے بستر کے قریب جاکراس کا ہاتھ پکڑ لیااور اسکو بستر سے اوپر اٹھنے میں اس کی مدد کی فو راً وہ شفایاب ہو گئی۔اور وہ اٹھ کر اسکی تعظیم کر نے لگی۔

32

اس شام غروب آفتاب کے بعدلوگوں نے مریضوں کو اور ان لوگوں کو جو بد روحوں سے متاثر تھے انکے پاس لائے۔

33

گاؤں کے تمام لوگ اسکے گھر کے دروازہ کے سامنے جمع ہوئے۔

34

سوع نے مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو شفاء بخشی، بدروحوں سے متاثر کئی لوگوں کو اس سے چھٹکارا دلایا۔لیکن ان بدروحوں کو یسوع نے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔کیوں کہ بدروحوں کو معلوم تھا کہ یسوع کون ہے۔

35

دُوسرے دن صبح صادق ہی اٹھ کر یسوع باہر چلے گئے۔وہ تنہا مقام پر گئے اور عبادت کر نے لگے۔

36

اس کے بعد شمعون اور اس کے ساتھی یسوع کی تلاش میں نکلے۔

37

وہ یسوع کو پایااور کہنے لگے کہ” لوگ تمہاری ہی راہ دیکھ رہے ہیں “۔

38

یسوع نے کہا”یہاں سے قریبی قریوں کو ہمیں جا نا چاہئے ان مقامات پر مجھے تبلیغ کر نی ہے اس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں”۔

39

اس طرح یسوع گلیل کے چاروں طرف دورہ کر کے ان کی یہودی عبادت گاہوں میں لوگوں کو تبلیغ کی اور بدروحوں سے متاثرلوگوں کونجات دلائی۔

40

ایک کوڑھی یسوع کے پاس حاضر ہوااور گھٹنے ٹیک کر عرض کر نے لگا” اگر آپ چاہیں تو مجھے صحت بخش سکتے ہیں”۔

41

یسوع نے اس پر رحم کے تقاضے سے چھو کرکہا”تیری صحت یا بی میری آرزوہے۔تجھے صحت نصیب ہو”۔

42

اس کے ساتھ ہی فوراً اسے تندرستی نصیب ہوئی۔ کوڑھ چھوٹ گیااور وہ کوڑھی چلا گیا۔

43

۔

44

یسوع نے اس کو روانہ کیا اور سختی سے تا کید کی کہ “ اس چیز کے متعلق کسی سے نہ کہنا مگر جاکر اپنے تئیں کا ہن کو دکھا اور اپنے پاک صاف ہو جا نے کی بابت اُن چیزوں کا جو مُوسیٰ نے مُقرّر کی نذ رانہ پیش کر تاکہ ان کے لئے گواہی ہو ۔”

45

[This verse may not be a part of this translation]