بائبل ایک سال میں
اپریل 26


لوقا 6:1-26
1. ایک مرتبہ سبت کے دن یسوع اناج کے کھیتوں سے ہو کر گذر رہے تھے ان کے شا گرِد با لیں توڑ کر اور اپنے ہاتھوں سے مل مل کر کھا تے جاتے تھے۔
2. چند فریسیوں نے کہا ،” تمہا را سبت کے دن ایسا کرنا گو یا موسیٰ کی شریعت کی خلا ف ورزی ہے تم ایسا کیوں کر رہے ہو ۔؟ “
3. اس بات پر یسوع نے جواب دیا ،” نے پڑھا ہے کہ داؤد اور اس کے ساتھی جب بھو کے تھے۔
4. تو داؤد ہیکل میں گئے اور خدا کو پیش کی ہو ئی روٹیاں اٹھا کر کھا لی اور اپنے ساتھ جو لوگ تھے ان کو بھی تھو ڑی تھوڑی دی یہ بات موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہے۔ صرف کا ہن ہی وہ روٹی کھا سکتے ہیں یہ بات شریعت کہتی ہے۔”
5. تب یسوع نے فریسی سے کہا،” ابن آدم ہی سبت کے دن کا مالک ۔” (متیّ۱۲:۹۔ ۱۴؛ مرقس۳:۱۔۶)
6. کسی اور سبت کے دن یسوع یہودی عبادت گاہ میں گئے اور لوگوں کوتعلیم دینے لگے وہاں پر ایک ایسا آدمی بھی تھا جس کا داہنا ہاتھ مفلوج تھا ۔
7. معلمین شریعت اور فریسی اس بات کے منتظر تھے کہ اگر یسوع اس آدمی کو سبت کے دن شفا ء دے تو وہ ان پر الزام لگا ئیں گے۔
8. یسوع ان کے خیالات کو سمجھ گئے یسوع نے ہاتھ کے سوکھے ہوئے آدمی سے کہا ،” آؤ اور درمیان میں کھڑا ہو جا “ وہ اٹھکر یسوع کے سا منے کھڑا ہو گیا۔
9. تب یسوع نے اس سے پوچھا ،” سبت کے دن کو نسا کام کر نا اچھا ہو تا ہے ؟ اچھا کا م یا کو ئی برا کام کسی کی زند گی کو بچانا یا کسی کو بر باد کر نا ؟۔”
10. یسوع نے اپنے اطراف کھڑے ہو ئے تمام لوگوں کو دیکھے اور اس آدمی سے کہا ،”تو اپنا ہاتھ مجھے دکھا اس نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا اس کے فوراً بعد ہاتھ شفاء ہو گیا۔
11. فریسی اور معلمین شریعت بہت غصہ ہوئے اور انہوں نے کہا ہم یسوع کے ساتھ کیا کریں؟ “ اس طرح وہ آپس میں تد بیر کر نے لگے۔ (متیّ۱۰:۱۔۴ ؛مرقس۳:۱۳۔۱۹)
12. اس وقت یسوع دعا کر نے کے لئے ایک پہاڑ پر گئے خدا سے دعا ئیں کرتے ہوئے وہ رات بھر وہیں رہے۔
13. دوسرے دن صبح یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلا ئے اور ان میں سے اس نے بارہ کو چن لئے یسوع ان بارہ آدمیوں کو “ رسولوں” کا نام دیئے۔
14. شمعون ( یسوع نے اس کا نام پطرس رکھا تھا) اور پطرس کا بھا ئی اندر یاس، یعقوب اور یوحناّ اور فلپس اور بر تلمائی۔
15. متیّ ،تو ما، یعقوب ،(حلفی کا بیٹا ) اور قوم پرست کہلا نے والا شمعون۔
16. یہوداہ (یعقوب کا بیٹا ) اور اسکر یوتی یہوداہ یہ وہ شخص ہے جس نے یسوع سے دشمنی کی ۔ (متیّ۴:۲۳۔۲۵؛۵:۱۔۱۲)
17. یسوع اور رسولوں نے پہا ڑ سے اتر کر نیچے صاف جگہ آئے انکے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت وہا ں حاضر تھی لوگوں کا ایک بڑا گروہ یہوداہ کے علا قے سے یروشلم سے اور سا حل سمندر کے صور اور میدان کے علاقوں سے بھی وہا ں آئے۔
18. وہ سب کے سب یسوع کی تعلیمات کو سننے کیلئے اور بیماریوں سے شفاء پا نے کے لئے آئے تھے۔بدروحوں کے اثرات سے جو لوگ متاثر تھے یسوع نے ان کو شفا ء بخشی ۔
19. سب کے سب لوگ یسوع کو چھو نے کی کو شش کر نے لگے کیوں کہ اس سے ایک طاقت کا اظہار ہو تا تھا اور وہ طاقت تمام بیماروں کو شفا ء بخشتی تھی۔
20. یسوع نے اپنے شاگردوں کو دیکھ کر کہا، تم غریبوں کو مبارک ہو ، خدا کی بادشا ہی تمہا ری ہے۔
21. مبارک ہو تم جو ابھی بھو کے ہو ،کیونکہ تم آسودہ ہو گے مبارک ہو تم جو ابھی روتے ہو ،کیونکہ تم ہنسوگے ۔
22. “ تمہارے ابن آدم کے زمرے میں شامل ہو نے کی وجہ سے لوگ تم سے دشمنی کریں گے اور تمہیں دھتکا ریں گے اور تمہیں ذلیل و رسوا کرینگے اور تمہیں برے لوگ بتائیں گے تب تو تم سب مبارک ہو ۔
23. اس وقت تم خوش ہو جاؤ اور خوشی سے کو دو اچھلو کیوں کہ آسمان میں تم کو اسکا بہت بڑا پھل ملیگا ۔ ان لوگوں نے تمہارے ساتھ جیسا سلوک کیا ویسا ہی انکے آباؤ اجداد نے نبیوں کے ساتھ کیا تھا ۔
24. “افسوس اے دولت مندو ! افسوس! تم تو آسودگی و خوشحالی کی زندگی کا مزا چکھے ہو ۔
25. افسوس اب اے پیٹ بھرے لوگو! کیوں کہ تم بھو کے رہوگے ۔ افسوس اے لوگو ! جو اب ہنس رہے ہو کیونکہ تم رنجیدہ ہو گے اور خوب روؤگے ۔
26. “ افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں کیوں کہ انکے آباؤ اجداد جھوٹے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ ( متّی۵:۳۸ ۔۴۸؛۷: ۱۲)