بائبل پڑھنا منصوبہ
فروری 23


متّی 21:1-22
1. یسوع اور اسکے شاگرد یروشلم کی طرف سے سفر کرتے ہو ئے زیتون کے پہاڑ کے نزدیک بیت فگے کو پہنچے ۔
2. وہاں یسوع نے اپنے دونوں شا گردوں کو بلا کر کہا، “ تم اپنے سامنے نظر آنے والے شہر کو جاؤ ۔ جب تم اس میں داخل ہو گے تو وہاں پر بندھی ہو ئی ایک گدھی پاؤگے ۔ اور اس گدھی کے ساتھ اسکا بچہ بھی ہو گا ۔ انہیں کھو ل کر میرے پاس لے آؤ ۔
3. اگر تم سے کو ئی یہ پو چھے کہ ان گدھوں کو کھو ل کر کیوں لے جا رہے ہو تو کہنا کہ مالک کو ان گدھوں کی ضرورت ہے اور وہ ان گدھوں کو بہت جلد ہی واپس لوٹا دیگا ۔ یہ کہہ کر انہوں نے ا ن لوگوں کو بھیج دیا ۔”
4. یہ اسلئے ہوا کہ جو پیشین گوئی نبی کے ذریعے دی گئی تھی پوری ہو جائے :
5. “ صیّون شہر سے کہہ دو ۔ تیرا بادشاہ اب تیرے پاس آرہا ہے وہ بہت ہی عاجزی سے گدھے پر سوار ہو کر آرہا ہے ۔ ہاں وہ جوان گدھے پر بیٹھ کر آرہا ہے ۔ جو پیدائش سے ہی کام کر نے والا جانور ہے۔” زکریاہ ۹:۹
6. یسوع کے کہنے کے مطابق وہ شاگرد گئے گدھی اور اسکے بچے کو یسوع کے پاس لا ئے ۔
7. وہ اپنے جبّوں کو انکے اوپر ڈالدیا ۔
8. تب یسوع اس پر سوار ہو کر یروشلم چلے گئے ۔ بہت سارے لوگ اپنے جبّوں کو یسوع کی خاطر راستے پر بچھا نے لگے ۔ اور بعص لوگ درختوں سے شگوفے اور نئی کونپلیں توڑ لائے اور راہ پر پھیلا دیئے ۔
9. بعض لوگ یسوع کے آگے اور بعض لوگ یسوع کے پیچھے چلتے آرہے تھے ۔ اور ان لوگوں نے اس طرح نعرے لگانے لگے : “ ابن داؤد کی تعریف و بڑائی کرو , خداوند کے نام پر آنے والے کو خدا کی نظر و کرم ہو ۔ زبور ۱۱۸:۶ آسمانی خدا کی حمد و ثنا کرو!”۔
10. جب یسوع یروشلم میں داخل ہو ئے تو سارے شہر کے لوگ پریشان ہو گئے ا ن میں ہلچل مچ گئی اور دریافت کر نے لگے کہ” یہ کون آدمی ہے “؟
11. یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والے ہجوم نے جواب دیا، “ یہی یسوع ہے، یہ گلیل علاقے کے ناصرت نام کے گاؤں کا نبی ہے ۔ “ (مرقس۱۱:۱۵-۱۹؛لوقا ۴۸-۴۵:۱۹؛ یوحنا ۲۲-۱۳:۲)
12. یسوع ہیکل کے اندر چلے گئے ۔ وہاں پر خرید و فروخت کر نے والے تمام لوگوں کو اس نے وہاں سے بھگا دیا ۔ سکوں کا صرّافہ کر نے والوں کو اور کبوتر فروخت کر نے والوں کے میز گرا دیئے ۔
13. یسوع نے وہاں پر موجود لوگوں سے کہا، “میرا گھر عبادت گاہ کہلائے گا۔” اسی طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے، “ لیکن تم ہیکل کو چوروں کے غار کی طرح بنا دیتے ہو۔”
14. چند اندھے اور لنگڑے لوگ ہیکل میں یسوع کے پاس آئے ۔ یسوع نے انکو شفاء دی ۔
15. اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یہ سب دیکھا ۔ ان لوگوں نے یسوع کے معجزے اور ہیکل میں چھوٹے چھو ٹے بچّوں کو یسوع کی تعریف میں گن گاتے ہو ئے دیکھا ۔ چھوٹے بچے پکار رہے تھے” داؤد کے بیٹے کی تعریف ہو” ان سب کی وجہ سے کاہن اور معلّمین شریعت غصّہ سے بھڑک اٹھے ۔
16. اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یسوع سے پو چھا، “ یہ چھو ٹے بچے جو باتیں کہہ رہے ہیں کیا انکو تو نے سنا ؟ “یسوع نے جواب دیا،” ہاں تو نے چھو ٹے اور معصوم بچوں کو تعریف کرنا سکھا یا ہے۔ جو بات صحیفوں میں مذکور ہے ۔ اور پوچھا کہ کیا تم صحیفہ پڑھتے نہیں ہو ؟”
17. تب اس نے اس جگہ کو چھو ڑ دیا اور بیت عنیاہ کو چلے گئے اور یسوع نے اس رات وہیں پر قیام کیا ۔ (مرقس۱۱:۱۲-۱۴؛ ۲۰-۲۴)
18. دوسرے دن صبح یسوع شہر کو واپس جا رہے تھے کہ انکو بھوک لگی ۔
19. انہوں نے راستے کے کنارے ایک انجیر کا درخت دیکھا اور اسکے میوہ کو کھانے کے لئے درخت کے قریب گئے ۔ لیکن درخت میں صرف پتّے ہی تھے ۔ اس وجہ سے یسوع نے اس درخت سے کہا، “ اس کے بعد تجھ میں کبھی پھل پیدا نہ ہوں ۔” اسکے فوراً بعد انجیر کا درخت خشک ہو گیا ۔”
20. شاگردوں نے اس منظر کو دیکھ کر بہت تعجب کیا اور پو چھنے لگے یہ انجیر کا درخت اتنی جلدی کیسے سوکھ گیا ؟ “
21. یسوع نے جوابدیا، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم شک و شبہ کے بغیر ایمان لاؤ جس طرح میں نے اس درخت کے ساتھ کیا ہے ویسا ہی تمہارے لئے بھی کرنا ممکن ہو سکے گا اس سے اور زیادہ بھی کر ناممکن ہو گا ۔ اگر تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جاکر سمندر میں گر جا اگر پختہ ایمان سے کہا جائے تو ایسا بھی ضرور ہو گا ۔
22. جو کچھ بھی تم دعا میں مانگو گے وہ تمہیں ملیگا اگر تمہارا ایمان پختہ ہے ۔ “ (مرقس ۱۱:۲۷-۳۳ ؛ لوقا ۲۰:۱-۸ )