بائبل ایک سال میں
جولائی 23


رسولوں 10:1-23
1. شہر قیصر یہ میں ایک شخص کرنیلیس نامی تھا ۔ وہ ایک فوجی پلٹن کا صوبے دار تھا جو “اطالیاتی “ کہلا تی تھی ۔
2. کرنیلیس ایک نیک آدمی تھا۔ وہ اور دوسرے لوگ جو اس کے گھر میں رہتے تھے مسیح خدا کی عبادت کر تے تھے۔ وہ بہت خیرات دیتا اور ہر وقت خدا سے دعا کیا کر تا تھا۔
3. ایک دن دوپہر تقریباً تین بجے کر نیلیس نے عالم رویا میں دیکھا کہ خدا کے فرشتہ نے آکر اس کو پکارا اور کہا، “ کر نیلیس۔”
4. کر نیلیس نے فرشتہ کو دیکھا اور ڈر گیا لیکن اس نے پو چھا ،” کیا بات ہے جناب ؟”فرشتہ نے کر نیلیس سے کہا، “ خدا نے تمہاری دعا سن لی ہے اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ تم غریبوں کی مدد کرتے ہو ۔خدا تمہیں یاد کرتا ہے ۔
5. اب تم کچھ آدمی جوفا بھیجو ایک آدمی جس کا نام شمعون ہے اور وہ پطرس کہلا تا ہے ۔
6. شمعون اب ایک دوسرے آدمی کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے اسکا نام دبّاغ ہے جو چمڑے کا کام کر تا ہے اور سمندر کے کنارے مکان میں رہتا ہے ۔”
7. فرشتہ نے یہ کہا اور چلا گیا ۔کر نیلیس اپنے دو ملازموں اور سپاہیوں کو بلایا یہ سپا ہی دیندار تھا ۔ جو کرنیلیس کے قریبی مدد گاروں میں تھا ۔
8. کر نیلیس نے ان تینوں کو ہر چیز اچھی طرح سمجھا دی اور انہیں جوفا روانہ کیا ۔
9. دوسرے دن وہ سفر کرتے ہو ئے اور جو فا کے قریب آئے اس وقت پطر س اوپر چھت پر دعا کر نے کو چڑھا یہ دوپہر کا وقت تھا ۔
10. پطرس بھوکا تھا ۔اور کچھ کھا نا چاہتا تھا لیکن جب وہ لوگ کھانا تیار کر رہے تھے اس وقت پطرس نے رویا (خواب) میں دیکھا ۔
11. اس نے دیکھا کہ آسمان کھل گیا اور ایک چیز جیسے ایک بڑی چادر ہو زمین کی طرف آرہی ہے اس کے چاروں کو نے پکڑے ہو ئے تھے۔
12. اس میں ہر قسم کہ جانور کیڑے مکوڑے چوپا ئے اور پرندوں جو ہوا میں اڑتے ہیں اس میں مو جود تھے۔
13. تب ایک آواز نے پطرس سے کہا، “ اٹھ اے پطرس! ان میں سے کسی بھی جانور کو ما رو اور اس کو کھا جا ؤ۔”
14. لیکن پطرس نے کہا، “ اے خداوند میں ایسا نہیں کر سکتا میں نے ایسی کو ئی غذا نہیں کھا ئی جو صاف نہ ہو اور نا پاک ہو۔”
15. لیکن دوسری بار آواز آئی اور کہا، “ خدا نے یہ سب تمہا رے لئے پاک کر دیا ہے اور انہیں نا پا ک نہ کہو۔”
16. اس طرح تین بار ایسا ہی ہوا اور پھر وہ تمام چیزیں آسمان پر اٹھا لی گئیں۔
17. پطرس حیران ہوا کہ آخر یہ کیا رویا تھی۔ کر نیلیس نے جن آدمیوں کو روا نہ کیا تھا انہوں نے مکان دریافت کر کے شمعون کے گھر پہنچے اور دروازے پر آکھڑے ہو ئے ۔
18. انہوں نے پو چھا ! “کیا شمعون جو پطرس کہلا تا ہے یہاں رہتا ہے ؟”
19. پطرس ابھی تم اس رویا کے با رے میں سوچ رہا تھا لیکن روح نے اس کو کہا، “ سنو! تین آدمی تمہیں دیکھ رہے ہیں۔”
20. “ اٹھو اور نیچے جاؤ ان آدمیوں کے ساتھ جاؤ اور ان سے کو ئی سوال نہ” کرو میں نے ہی انہیں تمہا رے پاس بھیجا ہے ۔”
21. چنانچہ پطرس نیچے ان آدمیوں کے پاس گیا اور کہا، “ میں ہی وہ آدمی ہوں جسے تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ؟۔”
22. ان آدمیوں نے کہا، “ یہ مقدس فرشتہ ہے کر نیلیس سے کہا ، “ وہ تمہیں اپنے گھر بلا ئے کرنیلیں ایک فوجی افسر ہے۔ و ہ بہت اچھا اور راست باز آدمی ہے۔ وہ خدا کی عبادت کرتا ہے اور تمام یہو دی اس کی عزت کر تے ہیں۔ اسی فرشتے نے کر نیلیس سے کہا کہ وہ تمہیں اس کے گھر بلا ئے اور جو کچھ تم کہیں اس کو وہ سنے ۔”
23. پطرس نے آدمیوں سے کہا وہ اندر آئیں اور رات کو یہیں ٹھہریں۔ دوسرے دن پطرس تیار ہو کر ان آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوا یسو ع کے کچھ شاگرد جو جوفا میں تھے پطرس کے ساتھ ہو لئے ۔